عیب دار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس میں کوئی برائی یا نقص ہو، برائی یا نقص رکھنے والا۔ "عیب دار لباس وہ ہے کہ اس سے افلاس یا ترک دنیا کا اظہار ہو۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٢٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عیب' کے ساتھ فارسی زبان 'دانش' سے صیغہ امر 'دار' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٤٦ء کو "جواہر المواعظ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس میں کوئی برائی یا نقص ہو، برائی یا نقص رکھنے والا۔ "عیب دار لباس وہ ہے کہ اس سے افلاس یا ترک دنیا کا اظہار ہو۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٢٥٠ )